شیعہ کون ہے؟
شیعہ کہ معنی گروہ کہ ہے۔ اسی طرح شیعہِ حضرت امام علی (ع) کا مطلب ھے کہ علی (ع) کہ گروہ والے۔ یعنی کہ آسے لوگ جو امام علی (ع) کو مانتے ہو اور ان کہ بتاۓ ہوۓ راستے پہ عمل بھی کرتے ہو۔
مولانا وحیدالزمان خان حیدرآبادی لفظ شیعہ کی وضاحت کرتے ہوے لکھتے ہیں ’’ اصل میں شیعہ گروہ کو کہتے ہیں‘‘۔
مولانا وحیدالزمان خان حیدرآبادی لفظ شیعہ کی وضاحت کرتے ہوے لکھتے ہیں ’’ اصل میں شیعہ گروہ کو کہتے ہیں‘‘۔
شیعہ کس زبان کا لفظ ہے؟
شیعہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ جو کہ قرآن ‘ حدیث اور تاریخ میں بہت سے مقامات پر استعمال ہوا ہے۔ شیعہ کی جمع ’’شیع‘‘ اور ’’اشاع‘‘ آتی ہے اور شیعہ کی اصل اور بنیاد مشایعت ہے جس کے معی ہیں پیچھے جانا، متابعت کرنا۔قرآن میں لفظ شیعہ کن معنوں میں استعمال ہوا ہے؟
قرآن میں لفظ شیعہ عام طور پر گروہ اور پیروکار کے معنی میں آیا ہے۔ مثلاً اللہ پاک (سورۃ الحجر آیات ۱۰) میں ارشاد فرمایا ہے’’ اور ہم نے آپ کے قبل بھی پیغمبروں کو اگلے لوگوں کے بہت سے گروہوں میں بھیجا تھا‘‘۔
آج شیعہِ حضرت امام علی (ع) دنیا کہ کونے کونے میں موجود ہے اور اپنے امام کہ حکم کہ مطابق اپنی زندگیاں گزار رہے ہے۔