Asool e Deen :- (2) Addal


اصولِ دین

  -:عدل 

شیعہ امامیہ "عدل" کو اصول دین میں شامل سمجھتے ہیں۔ یعنی خدا وند عالم  کسی پر ظلم نہیں کرتا اور نہ ہی اس سے کوئی ایسا فعل سرزد ہوتا ہے جسے عقل سلیم برا سمجھے، اسی اعتقاد کا نام "عدل" ہے۔
اللہ پاک نے انسان کو اچھائی اور برائی میں تمیز کرنے کے لیے عقل عطا کی ہے۔ پھر انسان کی ہدایت کے لیے انبیاء بھیجے اپنی کتابیں بھیجیں۔ انسان کو بتایا کہ یہ نیکی کا رستہ ہے اور یہ بدی کا۔ خدا نے بندوں کو کام کرنے اور نہ کرنے میں فاعل مختار بنایا ہے۔ انسان اپنے ارادے سے سب کچھ [نیکی یا بدی] کرسکتا ہے اور اپنی مرضی سے اپنے اعمال بجا لاتا ہے یہ ملکہ اختیار بھی اس کی دین اور عطاء ہے۔ خالق کائنات نے بندوں کو پیدا کیا اور انہیں اختیارات دے دیئے۔ البتہ اختیار عام یا کلی اختیار خدا ہی کو حاصل ہے لیکن جزئیات میں ہم بالکل آزاد ہیں۔ پروردگار عالم ہہ کسی انسان کو کسی کام کے واسطے مجبور کرتا ہے اور نہ ترک کے لیے بلکہ لوگ نیکی اور بدی کرنے میں اپنی مرضی کرتے ہیں۔ اچھے کام کرنے اور برے کام چھوڑنے کی انسان قدرت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ اللہ پاک اپنے بندوں کو ایسا کام کرنے کا حکم نہیں دیتا جن کی وہ طاقت نہیں رکھتے اور جتنے عزاب کے وہ مستحق ہیں وہ انہیں اس سے زیادہ سزا نہیں دے گا۔

عدل کا معنی

   ہر شے کو اپنے موزوں مقام پر رکھنا اور حق دار کو حق پہنچانا عدل مخلوق کے درمیان اللہ کا میزان ہے۔ عدل ہی سے آسمان قائم ہے اور زمین برقرار ہے کیونکہ عادل حکیم نے میزان عدل سے ہی ان کی ایجاد فرمائی ہے۔